بین المذاہب ہم آہنگی اور قیام امن کے فروغ میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی حکمت و دانشمندی - (ڈاکٹر نعیم مشتاق)

ہمارے پاکستانی معاشرے کے کئی علمی و فکری شعبوں میں زوال کی طرح بین المذاہب مکالمہ بھی تحقیق و جستجو سے محروم رہا ہے۔ اس میدان میں اب تحقیق کی جگہ اندھا دھند تقلید نے لے لی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر و بیشتر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء کی تحقیق غلط فہمیوں کے ازالہ کے بجائے بذاتِ خود غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہے۔ روایتی مناظراتی سوچ رکھنے والے مبلغین کا طرزِ تبلیغ سامعین میں افہام و تفہیم اور رواداری پیدا کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف نفرت و تعصب پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ بعض مخصوص حالات میں اسلام مخالف اور متعصبانہ رویوں کا خاتمہ کرنے کے لیے جارحانہ طرزِ تبلیغ درست مگر اسے قرآن و سنت کا پسندیدہ طرزِ تبلیغ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قرآن ہمیں {اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِیَ اَحْسَنُ} ’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو) کی تاکید کرتا ہے۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے بھی ہمیں اسی عفو ودرگزر اور تحمل و برداشت ہی کے مظاہر نظر آتے ہیں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دراز گوش پر سوار ہو کر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے۔ راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے، یہودی بھی تھے، مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن اُبی بھی تھا۔ مسلمانوں میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری سے گرد و غبار اڑا تو عبد اللہ بن اُبی (جس نے ابھی ظاہراً بھی اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا: غبار نہ اڑاؤ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس پہنچ ہی چکے تھے، سواری سے اتر آئے، سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبد اللہ بول پڑا: ’سنیے صاحب! آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں، آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں ایذا دیں۔ اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے۔

یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور! بے شک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں۔ ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے۔

اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سمجھانے سے آخر امن و امان ہوگیا اور سب خاموش ہوگئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابو حباب، عبد اللہ بن اُبی نے آج اس طرح کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ’یا رسول اللہ! آپ درگزر فرما دیجیے۔ قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا، اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس لیے بے حد دشمنی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا، اُدھر اللہ تعالی نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا اور لوگوں نے آپ کو نبی مانا تو اس کی سرداری جاتی رہی۔ اس کا اسے رنج ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درگزر فرما دیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب بھی یہودیوں اور مشرکوں سے درگزر فرماتے تھے۔

(بخاری، الصحيح، کتاب الادب، باب کنية المشرک، 5:2299، الرقم:5854)

قرآن مجید نے بھی مسلمانوں کو اس ضبط و تحمل کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:

لَتُبْلَوُنَّ فِيْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَکُوْا اَذًی کَثِيْرًاط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ

(آل عمران، 3: 186)

’’(اے مسلمانو!) تمہیں ضرور بالضرور تمہارے اموال اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا اور تمہیں بہر صورت ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سے اذیت ناک (طعنے) سننے ہوں گے، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقویٰ اختیار کیے رکھو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں سے ہے‘‘۔

حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں۔ اسے چاہیے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کا م لے، اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے، اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اس کی طرف رکھے۔

(ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ج: 1، ص: 586)

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اسی قرآنی فرمان کی روشنی میں دین اسلام کے احیاء و تجدید کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے ضبط و تحمل کا ہر موقع پر بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نہایت حکمت و دانشمندی اور بصیرت کے ساتھ اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ میں سرگرداں ہیں۔ زیر نظر تحریر میں شیخ الاسلام کی حکمت و دانشمندی اور ضبط و تحمل کے چند مظاہر و اقدامات ان کی انقلابی شخصیت اور پرامن تعلیمات و افکار کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے نذرِ قارئین ہیں:

فکرِ اِسلامی کا تحفظ بذریعہ علم و اَمن

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اِسلام کے علم و دانش اور اَعلیٰ تصوراتی محاذوں کے خلاف حملوں کا مقابلہ مخاصمت یا غیض و غضب کی فضا میں نہیں بلکہ تعلیم و تعلم، علم دوستی اور منطق کو فروغ دے کر کیا ہے۔ ابھی گیارہ ستمبر کی مصیبت نہیں ٹوٹی تھی کہ انہوںنے اُس سے بھی قبل 13 اگست 1999ء کو اوسلو ناروے میں بین الاقوامی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

So this is just mention of what is the significance of peace in Islam. Islam, from the very beginning to its end, is peace and nothing else. Anything detrimental to peace, anything damaging to peace, anything conflicting to peace, anything contradictory to peace, it has no, absolutely no, concern with Islamic teachings. And whosoever may be, if he has any kind of terroristic character, extremistic character, any character detrimental to the welfare of humanity, any character detrimental to the global peace, any character detrimental to the societal peace of mankind, that is absolutely anti-Islam to our faith.

یہ اسلام میں امن کی اہمیت کا بیان ہے۔ اسلام تو اوّل تا آخر امن ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ جو چیز بھی امن کے لیے نقصان دہ، امن سے متصادم اور امن کی مخالف ہے اس کا اسلامی تعلیمات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس کسی کا بھی رویہ دہشت گردی، انتہا پسندی، انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ضرر رساں ہو یا امن عالم اور انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو، وہ ہمارے عقیدے میں مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لئے عملی اقدامات

بین المسالک ہم آہنگی و بین المذاہب رواداری کے فروغ ، اِنتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے حوالے سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے متعد پہلوؤں سے خدمات سرانجام دیں۔ درجنوں کتب تحریر کی ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر بے شمار لیکچرز و خطابات بھی دئیے۔ ان کی تفصیلات کے بیان کے لیے کئی دفتر درکار ہوں گے۔ تاہم اس موقع پر اس سلسلہ میں ہم ان کے چند عملی اقدامات ذیل میں درج کر رہے ہیں:

1۔ مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم (MCDF) کا قیام

مکالمہ بین المذاہب کے لیے تحریک منہاج القرآن اور شیخ الاسلام کی کوششوں سے ہر شخص باخبر اور آگاہ ہے۔ اِس ضمن میں باقاعدہ کاوش کا آغاز نوے (1990ئ) کی دہائی میں ہوا جب مسیحی مسلم گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ 9 نومبر 1998ء کو پاکستان میں موجود عیسائی آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور ان کے دل سے اِحساسِ محرومی ختم کرنے کے لیے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم (MCDF) کا قیام عمل میں لایا گیا۔

2۔ مسیحی برادری کا وفد جامع مسجد منہاج القرآن میں

15 مارچ 2002ء کو مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم کے تحت چالیس اَفراد کا وفد شیخ الاسلام سے ملنے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ آیا۔ اس موقع پر مسیحیوں کے لئے جامع مسجد منہاج القرآن کے دروازے کھول دیے گئے اور سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے انہیں مسجد میں اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔ شیخ الاسلام نے مسیحیوں کو سنتِ نبوی کے عین مطابق منہاج القرآن کی جامع مسجد کے اندر عبادت کرنے کی اجازت دے کر ایک فقید المثال قدم اٹھایا۔ یہ جرات مندانہ علامتی اظہار اس بات کا غماز تھا کہ عیسائیوں کو عبادت کرنے کی آزادی کا حق تسلیم شدہ ہے اور وہ اسلامی مذہب کے ماننے والوں سے دوستی کا رشتہ استوار کر سکتے ہیں۔ اسی موقع پر وفد میں شریک عیسائی مبلغ - بشپ انڈریو فرانسس چیئرمین کرسچن کوآرڈینیشن کونسل- نے شیخ الاسلام کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا:

آج برصغیر اور پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے کہ ایک مسلم عالم نے عیسائی برادری کے افراد کو خوش آمدید کہا ہے۔ اس جیسی کسی اور مثال کا ملنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ہمارے لیے منہاج القرآن مسجد کے دروازے کھول دیے ہیں اور اس طرح بین المذاہب تعلقات کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔

فروغِ امن اور بین المذاہب مکالمہ کے ضمن میں جاری کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف مسیحی تنظیموں کی طرف سے شیخ الاسلام کو اَمن ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔

3۔ جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں میں شرکت

جذبہ خیر سگالی کے تحت بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے نہ صرف دیگر مذاہب کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی جاتی ہے بلکہ انہیں بھی تحریک منہاج القرآن کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سے دیگر مذاہب کے نام لیواؤں کو اِسلام اور اَہلِ اِسلام کی رواداری اور حسنِ سلوک کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

شیخ الاسلام کی اَمن اور برداشت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ تحریک منہاج القرآن کی طرف سے پاکستان میں بالخصوص باقاعدگی کے ساتھ ایسے اجتماعی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، جن سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تحمل و برداشت اور رواداری کو فروغ ملے اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو۔

کرسمس مسیحیوں کا عظیم تہوار ہے، اس موقع پر شیخ الاسلام کی طرف سے ہر سال نمایاں مسیحی شخصیات اور تنظیموں کو کرسمس کارڈ بھجوائے جاتے ہیں، جو بذاتِ خود مسلمان عالم دین کی طرف سے ایک عظیم مثال ہے۔ اسی طرح تحریک منہاج القرآن کے دنیا بھر میں موجود مراکز پہ کرسمس تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے، جہاں مقامی بشپس اور دیگر نمایاں مسیحی شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔

اِسی طرح ہندو اور سکھ برادری کے مختلف تہواروں میں شرکت کرکے انہیں اِسلام کا آفاقی پیغام پہنچایا جاتا ہے اور انہیں مختلف پروگراموں میں شرکت کی دعوت بھی دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہر سال مینارِ پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہونے والی عالمی میلاد کانفرنس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بھرپور شرکت کرکے پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَمن و باہمی رواداری پر مبنی تعلیمات کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کی انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ گرجا گھروں میں بھی محافلِ میلاد کا انعقاد کیا گیا ہے۔ فروری 2010ء میں لاہور بپٹسٹ چرچ میں میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مسلم و مسیحی برادری کے کثیر اَفراد نے شرکت کی۔ اسی طرح امسال بھی لاہور کیتھولک کیتھڈرل چرچ میں بھی محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد کی گئی۔ بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے اِس طرح کے مشترکہ پروگرامز کا اِنعقاد اور ان میں شرکت ایک معمول ہے۔

4۔ توہین آمیز خاکوں/ فلم اور اسلام مخالف اقدامات پر متوازِن اور مدلّل نکتہ نظر

توہین آمیز خاکوں کی اِشاعت پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے حکم قرآنی کے تحت صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ مؤثر و مہذب اِحتجاج ریکارڈ کروایا۔ شیخ الاسلام نے عالم اقوام کے سامنے اس انتہائی اہمیت کے حامل مسئلہ کے دائمی حل کے لئے باقاعدہ طور پر دنیا بھر کے سرکردہ دینی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جس میں اس صورت حال کے پیش نظر درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیاگیا:

  1. ہم شانہ بشانہ اس امت کے ساتھ ہیں جو نصرتِ رسول اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ اس ردِ عمل سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ اُمت کے اس اقدام میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ضابطہِ اخلاق کی عکاسی ہونی چاہیے جس کا پرتو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے افعال و کردار میں جھلکتا نظر آتا تھا۔
  2. جن ممالک میں یہ توہین آمیز خاکے شائع کئے جا رہے ہیں ہم وہاں کی حکومتوں اور متعلقہ اخبارات و رسائل سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر سے نہیں بلکہ اپنے معاشرے سے بھی اٹھنے والی اس غیر جانبدار، سچی اور کھری پکار کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے قبیح جرم کی مذمت کریں، معافی مانگیں اور اس بحران کو ختم کریں۔ یہ لازمی ہے تاکہ ڈنمارک ہو یا فرانس، یا اس حرکت میں ملوث کوئی بھی ملک، عالمی برادری میں تنہا نہ ہو جائے۔ اُس عالمی برادری سے جو آزادی کا احترام کرتی ہے اور جو مذاہب عالم کی مقدس ہستیوں پر رقیق حملے کرنے سے روکتی ہے اور کسی بھی مذہب یا نسل کے خلاف عناد اور دشمنی کی فضا پیدا کرنے سے منع کرتی ہے۔ ہمارا ان ممالک سے بھی یہی مطالبہ ہے جو اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قبیح جرم کا دفاع کرتے ہیں۔ دنیا میں ایسے کسی معاشرے کا کوئی وجود نہیں ملتا جو مطلق آزادی کا حامی ہو اور جس نے ایسے جرائم پر قابو پانے کے لئے قانون سازی نہ کی ہو تاکہ کوئی کسی کے عقائد اور جذبات کو مجروح نہ کرسکے۔ تاہم ایسے قوانین اور ضابطوں کی سطحیں مختلف ممالک میں مختلف ہیں۔
  3. یہ بات مسلمہ اور طے ہے کہ ہمارا مذہب آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے بشرطیکہ اس کا مقصد و ضاحت طلب کرنا یا اپنے مقصد کے لئے تبادلہ خیال کرنا ہو، نہ کہ توہین و تضحیک۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے: ’اور ان سے بحث کرو احسن ترین طریقے سے۔‘ عقل سلیم رکھنے والے سب لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کی تمام دستاویزات میں اسے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں درج کیا گیا ہے۔
  4. ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ضبط نفس کا مظاہرہ کریں اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔ ہم کسی جارحانہ اقدام اور کسی ایسے رد عمل کو تسلیم نہیں کرتے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر معاہدوں کی منسوخی یا سفارت خانوں پر حملے اور بے گناہ عوام یا دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے اقدامات۔ اس طرح کا پرتشدد ردعمل ہماری عدل و انصاف پر مبنی اپیل کو بے اثر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں دنیا بھر میں ہونے والے مذاکرے اور اس اہم معاملے پر عالمی سطح پر ہونے والے تبادلہ خیال سے خارج بھی کر سکتا ہے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے روگردانی کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔
  5. جن مذہبی اکابرین اور عالمی رہنماؤں نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قبیح جرم کی مذمت کی ہے ہم ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ہم یہ تاکید بھی کرتے ہیں کہ وہ غیر مسلم جو مسلم یا غیر مسلم ممالک میں رہ رہے ہیں انہیں اس جرم کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ اس اصول کی بنیادیں بھی قرآنی تعلیمات پر رکھی گئی ہیں۔ ارشاد ہے: ’اور کوئی انسان کسی دوسرے کے عمل کا ذمہ دار نہیں‘ اور ’کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور بھی ہے؟
  6. ہم اسلامی کانفرنس کی تنظیم (OIC)، مسلم ممالک اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ پر زور دیں تاکہ وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت عیسٰی و موسیٰ علیہما السلام اور دیگر برگزیدہ پیغمبروں کی اہانت کو جرم قرار دینے کا اعلان کرے۔
  7. ہم اس موقعہ پر مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہوئے حضور کی سنت پراور آپ کے اسوہِ حسنہ اور ہدایات پر عمل کرکے ان سے اپنا ربط و تعلق استوار کریں اور نصرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو لہر اس وقت مسلمانوں کے دلوں کو گرما گئی ہے وہ محض ہوا کا جھونکا ثابت نہ ہو جسے گزر جانے پر بھلا دیا جائے بلکہ یہ رغبت اور میلان اب مسلمانوں کے اندر ہمیشہ زندہ رہنا چاہئے۔
  8. ہم بارِ دگر تاکید کرتے ہیں کہ ہمارا یہ فرض بنتا ہے اور اس کے لئے ہم ذمہ دار ہیں کہ ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص و فضائل اور اخلاق حسنہ کی دوسروں کو تعلیم دیتے رہیں۔ یہ کام تحریر و تقریر دونوں طریقوں سے کرنا ہوگا۔ لیکن اس کا بہترین طریقہ بلا شبہ ہمارا کردار اور دوسروں کے ساتھ ہمارا حسن عمل ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ بھی امرِ لازم ہے کہ متعلقہ ادارے اور مخیر حضرات آگے آئیں اور اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس جدوجہد کی بھر پور تائید اور حمایت کریں۔

٭ عالمی ممالک کے سربراہان کو تاریخی مراسلہ

2012ء میں ایک گستاخانہ فلم منظر عام پر آئی، جس سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے اَربوں اَمن پسند اِنسانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں نے اِس طرزِ
عمل اور گستاخانہ اِقدامات کی اپنے اپنے انداز میں مذمت کی اور بھرپور اِحتجاج کیا۔

اِسی تناظر میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اِحترامِ مذاہب کے حوالے سے UN اور OIC سمیت پوری دنیا کے ممالک کے سربراہان کو تاریخی مراسلہ لکھا، جس میں اُنہوں نے باور کرایا کہ کسی بھی مذہب کی ذواتِ مقدسہ کے خلاف توہین آمیز اِقدامات سے نہ صرف اَمنِ عالم تباہ ہوگا بلکہ دہشت گردی و اِنتہاء پسندی کے خلاف کی جانے والی کاوشوں کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔ اُنہوں نے مختلف ممالک کے قوانین کے حوالے دیتے ہوئے یہ بات ثابت کی ہے کہ ایسے گستاخانہ اِقدامات کسی بھی لحاظ سے freedom of speech یا freedom of expression کے زُمرے میں ہرگز نہیں آتے۔ لہٰذا جب تک اِن شرانگیز اِقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر قانون سازی نہیں کی جائے گی اور redefining of basic principles کا عمل نہیں ہوگا اُس وقت تک دہشت گردی کا قلع قمع اور پائیدار اَمنِ عالم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ (یہ مراسلہ انگریزی، عربی، اُردو اور نارویجن زبانوں میں چھپ بھی چکا ہے۔)

  • شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اسلام اور بانی اسلام کے مقام و مرتبہ کی حفاظت کی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے صرف پاکستان کے حکمرانوں اور عوام ہی کو متوجہ نہیں کیا بلکہ مسٹر باراک حسین اوبامہ صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ وائٹ ہاؤس کے نام خط میں اس نازک مسئلہ پر اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ اَفراد جو ڈیڑھ اَرب مسلمانوں کی دل آزاری کے درپے ہیں اور تہذیبی نزاع کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں، ان تک واضح انداز میں پیغام پہنچایا جائے کہ ان کی یہ حرکات انتہا پسندی کو مزید پروان چڑھا رہی ہیں اور عالمی امن کے لئے نقصان دہ ہیں۔ معاشروں کے درمیان نفرت اور تقسیم ختم کرنے، مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے، مغربی دنیا اور اسلام کے مابین یگانگت، مفاہمت، وحدت، امن و آشتی کے قیام کے لئے ان حرکات کو روکنا از حد ضروری ہے۔

٭اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے مطالبہ

عالمی سطح پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے تسلسل اور اقوام عالم کی جانب سے اس پر گہری خاموشی اختیار کرنے پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری باقاعدہ طور پر اکتوبر2012ء میں اَقوامِ متحدہ اور عالمی رہنماؤں سے اس مسئلہ کے حل کے لئے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کر چکے ہیں:

  1. جملہ مذاہب کے بانیان اور پیغمبرانِ کرام علیہم السلام کی گستاخی کو کسی طور پر آزادیِ اِظہار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تمام مذاہب کی تعلیمات اور جملہ عالمی قوانین کی رُو سے یہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے اِنسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
  2. مقدس ہستیوں کی اہانت کے جرم کی سز اکی دفعات تمام ممالک کے تعزیری قوانین میں شامل کی جائے۔
  3. اقوام متحدہ کے چارٹر میں آرٹیکل نمبر 1 کی شق نمبر 3 پر نظر ثانی کی جائے اور توہینِ مذاہب کو آزادیِ رائے کے دائرے سے خارج کرتے ہوئے عالمی جرم قرار دیا جائے۔
  4. سوشل میڈیا کے لیے عالمی سطح پر متفقہ ضابطہ اَخلاق تیار کیا جائے جس میں کسی بھی مذہب کے خلاف توہین آمیز مواد کی اِشاعت کلیتاً ممنوع قرار دی جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف عالمی دہشت گردی کے جرم میں قانونی چارہ جوئی یقینی بنائی جائے۔
  • شیخ الاسلام نے تمام OIC اراکین اور ہر مسلم حکمران سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ:
  1. عالمی سطح پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کے خلاف فوری طور پر اِسلامی ممالک کا سربراہی اِجلاس بلایا جائے اور OIC کے رُکن جملہ ممالک’اِحترام مذاہب کا عالمی قانون‘ بنانے کے لیے متفقہ طور پر اَقوامِ متحدہ میں قرار داد پیش کریں۔
  2. اگر اَقوامِ عالم 57 اِسلامی ممالک کے مطالبہ پر اِحترامِ مذاہب کی عالمی سطح پر قانون سازی نہیں کرتیں تو اَقوامِ متحدہ کا اِجتماعی مقاطعہ کر دیا جائے۔
  3. تمام مسلم ممالک میں توہین آمیز مواد شائع کرنے والے تمام ویب سائیٹس اور رسائل و جرائد و کتب پر فور ی پابندی لگا دی جائے تاآنکہ ویب سائٹس سے توہین آمیز مواد ہٹا دیا جائے اور مطبوعہ مواد کو ضبط کر لیا جائے۔
  • شیخ الاسلام نے توہین آمیز فلم اور خاکے بنانے کے خلاف حکومت پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کرنے کی تجویز دی اور اس سلسلہ میں حکومت کو Case لڑنے کے لیے اپنی خدمات بھی پیش کیں۔
  • امن و محبت کے فروغ اور اسلامی تعلیمات امن کے پرچار کے لئے ان توہین آمیز خاکوں کے ردعمل میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں و ریلیوں کے لیے شیخ الاسلام نے درج ذیل ضابطہ اخلاق جاری کیا:
  1. احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کو اسلامی تعلیمات اور سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں ہر حال میں پرامن رکھاجائے اور احتجاج میں قومی املاک اور جانوں کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنایاجائے۔
  2. احتجاج میں شرپسند اور انتہا پسند عناصر و گروہوں کو کسی صورت میں شامل نہیں نہ کیاجائے۔
  3. احتجاج میں نفرت انگیز تقاریر اور کسی مذہب ، مسلک یا قوم کے خلاف نعرے بازی نہ کی جائے۔
  4. غیر ملکی سفارتخانوں اور سفارتی عمارتوں کے گھیراؤ جلاؤ اور جھنڈوں کو جلانے سے ہر صورت اجتناب کیاجائے۔
  5. امت مسلمہ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ اور سیرت و تعلیماتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام کیا جائے اور ایسے مواقع پر
  6. وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ کے تصور کو اُجاگر کیا جائے۔

5۔ کثیر المذہبی اَمن برائے اِنسانیت کانفرنس کا اِنعقاد

اِنسانیت کے سامنے دینِ اَمن و رحمت کو حقیقی تعلیمات کے ساتھ پیش کرنے میں جو لوگ عالمی سطح پر پیش پیش ہیں اُن میں بجا طور پر اُمتِ مسلمہ کی بالعموم اور پاکستان کی بالخصوص نمائندگی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے حصے میں آئی ہے۔ دورِ حاضر میں یہ واحد مسلمان شخصیت ہیں جو مشرق و مغرب میں مقیم مایوس اور سہمے ہوئے مسلمانوں کے چہروں سے اِحساسِ ندامت و شرمندگی اور خوف ختم کر کے انہیں سکون و اِطمینان کی دولت لوٹا رہے ہیں۔

24 ستمبر 2011ء کو ویمبلے ارینا لندن میں انہوں نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو اس دور کی حکمتوں کے عین مطابق اسلام کے پیغامِ اَمن و محبت کو پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کا باعث بنا۔ انہوں نے پوری دنیا کے تمام بڑے مذاہب (مسلم، مسیح، یہودی، ہندو، سکھ اور بدھ مت) کے نمائندے ایک چھت کے نیچے جمع کر کے ان سے پُراَمن بقاے باہمی کے لئے نئے سرے سے کاوشیں بروئے کار لانے کا عہد لیا جو قراردادِ لندن (London Declaration) کے نام سے 24 نکات پر مشتمل تھا۔ یہ کارروائی ان فرقہ وارانہ عالمی سازشوں کا توڑ ہے جو تہذیبی تصادم کے فلسفے کو ہوا دے کر دنیا کو جنگوں کی آماج گاہ بنانا چاہتی ہیں۔ اَمن برائے اِنسانیت کانفرنس کا عنوان ’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : رسولِ رحمت‘ تھا، اس لئے ضروری تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور انسان دوستی پر مبنی دعوت کا تفصیل سے تعارف کرایا جاتا۔ چنانچہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ہزارہا حاضرین کی موجودگی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں مختلف مذہبی پیشواؤں کے سامنے سیرتِ طیبہ کے نقوش انگریزی زبان میں اتنے خوبصورت پیرائے میں اجاگر کیے کہ اہل علم و بصیرت داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

پاکستان اور پوری دنیا میں کثیر تعداد نے یہ خطاب براہ راست ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ کے ذریعے سنا اور دیکھا۔ اس خطاب نے ان مسلمانوں کے سر فخر سے بلند کر دیے جو مخالفین کے طعنوں اور الزام تراشیوں سے جھک گئے تھے۔ گزشتہ عشروں میں بعض فتنہ پرور اداروں اور شخصیات نے دراصل قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو اتنے غلط انداز میں پیش کیا ہے کہ ہر شخص بدگمانی سے سمجھتا ہے مسلمان غیر مہذب اور خون خوار جانوروں کا گروہ ہے۔ ان سازشی ذہنوں نے جہاد جیسے اسلامی فریضے کو بھی انسانیت کے قتل کا دستور بناکر پیش کیا ہے۔ اس لئے شیخ الاسلام نے اپنے جامع خطاب میں بعثتِ مبارکہ اور ہجرتِ حبشہ سے لے کر فتح مکہ تک سیرت طیبہ کا پورا نقشہ اجاگر کیا اور مدینہ منورہ کے دس سالہ دورِ نبوی میں ہونے والی جنگوں کو بھی حقیقی امن کے قیام کے لئے ناگزیر دفاعی کاوشیں قرار دیا جن سے اَمن دشمن فتنہ پرور کفار کی سازشوں کا قلع قمع ممکن ہوا۔ یوں انہوں نے مستشرقین کی طرف سے اٹھائے جانے والے دیرینہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے اِسلام کے تصورِ جہاد کی بھی اِطمینان بخش وضاحت کر دی اورحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے متعلق غلط فہمیوں کا ممکنہ حد تک ازالہ بھی کر دیا۔ تقریبا پندرہ ہزار افراد پر مشتمل ایک بڑے اِجتماع کے سامنے غیر مسلم قیادتوں اور ان کے نمائندہ وفود کو بھرپور نمائندگی دینے سے اِسلامی تعلیمات کی وسعتِ ظرفی، تحمل اور پُراَمن بقائے باہمی کے جذبے کی عالمی سطح پر تصدیق بھی ہوگئی اور وہ پراپیگنڈہ اپنی موت آپ مرگیا جو مذہبی منافرت پھیلاکر دنیا میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتا تھا۔

اس عالمی اجتماع میں عالم اسلام کی عظیم مادرِ علمی جامعہ اَزہر سے بھی اعلٰی سطحی وفد نے بھرپور شرکت کی۔ رئیس الازھر ڈاکٹر اُسامہ محمد العبد نے شیخ الازھر ڈاکٹر احمد محمد الطیب کی طرف سے خصوصی پیغام میں اِسلام کا تصورِ محبت و اَمن واضح کیا اور کانفرنس کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور کانفرنس کے منتظمین کو خصوصی مبارک باد بھی دی۔ اس تاریخی اَمن برائے اِنسانیت کانفرنس میں جہاں متعدد وفود اور سربراہان نے بھرپور شرکت کی وہیں بہت سے نام ور رہنماؤں نے اپنے خصوصی تحریری و ویڈیو پیغامات بھی بھجوائے جن میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل Ban Ki-Moon ،OIC کے سیکرٹری جنرل Dr Ekmeleddin Ihsanoglu، برطانوی وزیر اَعظم David Cameron، برطانوی نائب وزیر اعظم Nick Clegg، برطانوی قائد حزبِ اِختلاف Ed Miliband کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر رہنما بھی شامل تھے۔

6۔ اسلامی تعلیماتِ امن کے فروغ میں کلیدی کردار

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کسی بھی تصنیف، خطاب، یا عملی اقدامات کو دیکھا جائے تو ان تمام میں فروغ امن مشترک ہے۔ پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک، سننے والے مسلمان ہوں یادیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ، شیخ الاسلام ہر جگہ اسلام کی تعلیمات امن، سلامتی ، محبت و شفقت اور انسانیت سے محبت و عدم تشدد کا درس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی ، منہاج یونیورسٹی، منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، یتیم بچوں کا ادارہ آغوش، مستحق اور نادار بچیوں کا ادارہ بیت الزہراء ، یہ تمام عملی اقدامات بھی امن و سلامتی اور خیر و بھلائی پر ہی منحصر ہیں۔ ذیل میں شیخ الاسلام کے امن کے فروغ کے لئے چند افکار و اقدامات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:

i۔ اِقامت دین سے مراد اَمن عالم کا قیام ہے

بعض اِنتہا پسند طبقا ت نے اِقامتِ دین سے مراد دنیا سے تمام اَدیان کا خاتمہ لے لیا ہے اور ساری کی ساری اِنسانیت کو مسلمان بنانا اور دنیا سے غیر مسلموں کا خاتمہ سمجھ لیا ہے۔ یہی تصور ان کی گمراہی کا باعث بن گیا۔ فی الواقع یہ تصورِ دین فطرت کے بھی خلاف تھا۔ یہ لوگ اور تحریکیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے راستے پر چل پڑے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نزدیک اسلام میں اس طرح کے اِنتہا پسندانہ خیالات کی گنجائش نہیں۔ ان کے ہاں اقامت اسلام کا مقصد اَمنِ عالم کا قیام ہے۔وہ اسلام کو دینِ امن سمجھتے ہیں، دینِ محبت گردانتے ہیں، بقائے باہمی، تحمل و برداشت، احترامِ آدمیت اور حرمتِ جانِ انسانی کو وہ بنیادی اسلامی شعائر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے دعوتی حکمتِ عملی سے وہ کام کر دکھایا جو ناممکن نظر آتا تھا۔ انہوں نے انقلابیت اور امن پسندی کو ایک جگہ جمع کر دیا اور دنیا بھر میں ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جو اسلام کا عروج دیکھنا چاہتی ہے۔ اِقامتِ دین جس کی منزل ہے، تجدید دین جس کا راستہ ہے، احیائے دین جس کا مشن ہے لیکن ان کی یہ تحریک دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کلیتاً پاک ہے۔ وہ چاہتے ہے کہ اسلام کے دامن سے دہشت گردی کا داغ دھل جائے اور مسلمان تلوار کی بجائے دلیل، منطق اور صلاحیت سے غیر مسلم دنیا کو متاثر کریں۔

شیخ الاسلام کے نزدیک بے گناہ انسانیت کا قتل ظلمِ عظیم ہے۔ احیائے اسلام کی منزل نفرت و تصادم سے نہیں بلکہ محبت و رواداری سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ شیخ الاسلام نے اسلام کا امن و محبت اور رواداری پر مبنی پیغام دنیا تک پہنچایا۔ اسلام پر فکری اور نظریاتی محاذوں پر ہونے والے حملوں کا جواب غصے اورجلال سے نہیں بلکہ علم اور دلیل کی زبان میں دیا۔

ii۔ ظلم و نااِنصافی کے خلاف سیاسی و جمہوری جد و جہد کا پُراَمن شرعی طریقہ

شیخ الاسلام کے مبسوط تاریخی فتویٰ میں ’مسلم ریاست میں اِعلاے کلمہ حق کا پُر اَمن منہاج‘ کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا گیا ہے، جس میں ظلم و نااِنصافی کے خلاف سیاسی و جمہوری جد و جہد کا شرعی طریقہ بتلایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مقام پر شیخ الاسلام رقم طراز ہیں:

حکمرانوں کے ظلم و نا انصافی اور فسق و فجور کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے مگر اس کا طریقہ پُراَمن ہونا چاہیے، جو تشدد اور دہشت گردی کی جملہ شکلوں سے پاک ہو۔ موجودہ دور میں اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں، مثلاً:

  • آزادیِ اِظہارِ رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے ظلم کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرنا۔
  • کتب، لٹریچر اور اخبارات میں مضامین نیز ہر برائی اور ظلم کی مذمت اور اس کا جمہوری انداز سے مؤاخذہ کرنا۔
  • پُراَمن ریلیوں کی شکل میں ظلم و نااِنصافی اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا۔
  • جمہوری و آئینی دائرے کے اندر رہ کر اِجتماعات اور کانفرنسز منعقد کرنا۔
  • تقریر و تحریر کے ذریعے اجتماعی شعور کو بیدار اور رائے عامہ کو ظلم و استحصال اور ناانصافی کے خلاف ہموار کرنا۔
  • ان تمام مقاصد کے لئے تنظیم سازی اور جماعت سازی کرنا۔
  • بہتری کے لئے حکومتوں کو آئینی و جمہوری طریقے سے بدلنے کے لئے جماعتی سطح پر منظم پُراَمن جدوجہد کرنا۔

بعض اوقات یہی کوششیں انفرادی، اجتماعی، تنظیمی اور جماعتی سطح پر فرائض کا درجہ بھی اختیار کر لیتی ہیں اور ان سے پہلو تہی گناہ اور عذابِ خداوندی کا باعث بن جاتی ہے۔

  • اِسی طرح ظلم و تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کی بحالی، بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور قانون کی بالا دستی کے لئے پارلیمنٹ کے فلور پر آواز اٹھانا بھی اسلامی، آئینی اور جمہوری طریقہ ہے جسے کوئی ردّ نہیں کر سکتا۔ سیاسی جماعت تشکیل دے کر انتخابی جد و جہد کرنا اور مختلف فورمز پر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا اور ترویج و اشاعتِ اسلام کے لئے انفرادی، اجتماعی اور جماعتی سطح پر آئینی و جمہوری طریقے سے جد و جہد کرنا، یہ سب کچھ قرآن و سنت کی بنیادی روح کے عین مطابق ہے۔

شیخ الاسلام کے تجویز کردہ یہ اقدامات آپ کے افکار و تعلیمات کے امن پر مبنی ہونے کا بین ثبوت ہے۔

iii۔ پاکستان میں قیامِ اَمن کا اِنقلابی پروگرام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اگست 2014ء میں پاکستان عوامی تحریک کے زیر اِہتمام ہونے والے تاریخِ اِنسانی کے طویل ترین اِنقلاب مارچ دھرنا میں ملک میں جاری دہشت گردی و فتنہ و فساد کے خاتمے اور غریبوں کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنا دس نکاتی انقلابی منشور پیش کیا۔شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ دہشت گردی صرف جان و مال کے نقصان ہی کا نام نہیں بلکہ معاشی دہشت گردی بھی ہوتی ہے جس کے مرتکب ہمارے حکمران ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عوام کو ان کے بنیادی حقوق بھی میسرنہیں آتے۔ لہذا ملک پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کو ان تک پہنچایا جائے۔ قیام امن کے لئے شیخ الاسلام کے اس انقلابی پروگرام میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، عدالتی نظام میں اصلاحات، ارتکاذ اقتدار اور ارتکاذ وسائل کا خاتمہ، بے روزگاری و بے گھری کا خاتمہ، تعلیم و صحت اور انصاف کی سہولیات کی مفت فراہمی قابل ذکر ہیں۔

iv۔چودہ نکاتی امن پلان

16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والی وطنِ عزیز کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے اَلم ناک واقعہ کے بعد شیخ الاسلام نے ملک و ملت کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے اپنا چودہ نکاتی اَمن پلان پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سرپرست پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک ہیں۔ لہٰذا دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں کے مکمل خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

شیخ الاسلام نے اپنے اس امن پلان میں فوجی عدالتوں کے قیام، دہشت گردوں کے حامیوں کے لئے بھی سزا، مدارس کے نصاب میں اصلاحات، مدارس و مذہبی جماعتوں کو ملنے والی بیرونی فنڈنگ پر پابندی، پیس ایجوکیشن سنٹرز کا قیام، نفرت آمیز لٹریچر پر پابندی، عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے خصوصی اقدامات اور نصاب میں امن کے فروغ کے لئے مضامین شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اگر ان تجاویز کا مطالعہ کیا جائے تو یقینا یہ تمام وہ اقدامات ہیں جو امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ شیخ الاسلام کی قیام امن کے لئے یہ علمی و فکری کاوش بلاشک و شبہ مثبت نتائج کی حامل ہے بشرطیکہ کوئی خلوص دل سے ان تجاویز پر عمل کرنے والا ہو۔

v۔ جہالت کا خاتمہ

قیام امن کے لئے علم کا فروغ اور جہالت کا خاتمہ ازحد ضروری ہے۔ ابھی 9/11 کا حادثہ وقوع پذیر نہیں ہوا تھا لیکن نیو ورلڈ آرڈر کے تانے بانے میں شیخ الاسلام اس سازش کو دیکھ رہے تھے کہ اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ذریعے بدنام کرنے کی عالمی سازش زوروں پر ہے۔ 1993ء میں اسلام کو درپیش خطرات کو محسوس کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے اپنے انقلابی کارکنوں کو یہ نعرہ دے دیا تھا:

’’انقلاب صرف خونی نہیں ہوتا بلکہ شعوری اور نظریاتی انقلاب زیادہ پائیدار اور دیرپا ہوتا ہے۔ لہٰذا اِس اِنقلاب کے لیے شعور ضروری ہے اور شعور کی بیداری کے لیے علم کا فروغ اور جہالت کا خاتمہ ضروری ہے۔ سو ضروری ہے کہ جہالت کے خاتمے کی جد و جہد کرتے ہوئے تعلیمی اِدارے قائم کیے جائیں لیکن وہ تعلیمی ادارے روایتی مدارس نہیں ہونے چاہییں بلکہ جدید تعلیمی نصاب کے حامل ادارے ہوں‘‘۔

ایک طرف شیخ الاسلام دیکھ رہے تھے کہ دنیاوی علوم میں مہارت کے بغیر ترقی کا خواب ایک دیوانے کی بڑ ہی ہو سکتی ہے اور دوسری طرف ان کی نظرِ جہاں بیں دیکھ رہی تھی کہ مستقبل قریب میں کس طرح مدارس کو دہشت گردی کے مراکز کے طور پر مشہور کیا جائے گا۔ اس لئے آپ نے دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز (COSIS) کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا تاکہ یہ روایتی مذہبی رنگ کی بجائے معاصر دینی تقاضوں کا حامل ادارہ بن سکے۔ ان کے اس تعلیمی منصوبہ کی وجہ سے منہاج القرآن وہ واحد دینی و تجدیدی تحریک ہے جس نے چھ سو زائد تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک قائم کیا اور ملک و قوم کو ایک باقاعدہ چارٹرڈ یونیورسٹی دی۔

حرفِ آخر: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری وہ نابغہِ عصر ہیں کہ آپ کسی ایک محاذ پر نہیں بلکہ کثیر الجہات پہلوؤں سے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات کے دفاع میں مصروف ہیں۔ شیخ الاسلام اور ان کی قائم کردہ تحریک کیا تصورِ دین دیتی ہے؟ دین کی تمام تعلیمات کن بنیادی تصورات (basic concepts) پر قائم ہیں اور ان تعلیمات کی بنیادی روح کیا ہے؟ اس حوالے سے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ

پانچ چیزوں سے ہمارے دین کا vision قائم ہوتا ہے اور یہ تحریک منہاج القرآن کی اِنفرادیت ہے:

  1. محبت و مؤدت
  2. اَمن و سلامتی
  3. اَدب و اِحترام
  4. علم و معرفت
  5. خدمت و فتوت

گویا ان پانچ اشیاء پر تحریک منہاج القرآن کا تصورِ دین قائم ہے اورجب یہ پانچ چیزیں ملتی ہیں تو حقیقی تصورِ دین بنتا ہے۔ اِن پانچ نکات میں انتہا پسندی یا دہشت گردی کا ہلکا سا شائبہ تک بھی نہیں ہے اور یہی تحریک منہاج القرآن اور اس کی قیادت کی اِنفرادیت ہے۔

تبصرہ