بین المذاہب رواداری

دنیا کے تمام مذاہب بنیادی طور پر انسانیت کو امن کا پیغام دیتے ہیں، مگر اس کے باوجود بدقسمتی سے مذاہب کے درمیان تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے۔ مختلف مذاہب کے مابین خوشگوار ماحول کو فروغ دینے اور بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لئے ان کے مابین مکالمہ کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام غیرمسلموں سے بھلائی کا حکم دیتا ہے، جس مقصد کے لئے بین المذاہب اچھے تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ جب مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ان کی باہمی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور ان کے دل میں ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری گزشتہ کئی سالوں سے اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان رواداری کے فروغ کے لئے مصروف عمل ہیں۔ اپنی تصانیف و خطابات کے ذریعے انہوں نے وہ فضا پیدا کر دی ہے کہ مسلم معاشرے میں اقلیتوں بالخصوص مسیحیوں کے حقوق کو کافی حد تک سمجھنے لگے ہیں۔ آپ کی طرف سے مختلف مذاہب کے مابین تحمل و برداشت اور عالمی بھائی چارے کا پیغام دنیابھر میں موجود منہاج القرآن اسلامک سنٹرز کی مدد سے عالمی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے۔

مؤرخہ 9 نومبر 1998ء کو پاکستان میں موجود عیسائی آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور ان کے دل سے احساس محرومی ختم کرنے کے لئے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر مسلم کرسچئن ڈائیلاگ فورم کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے تحت نہ صرف مسیحیوں کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی جاتی ہے بلکہ انہیں بھی تحریک منہاج القرآن کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سے دو طرفہ بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے اور عیسائیوں کو اسلام اور اہل اسلام کی رواداری اور حسن سلوک کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری مسلم کرسچین ڈائیلاگ فورم کے چیئرمین بھی ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی امن اور برداشت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ تحریک منہاج القرآن کی طرف سے پاکستان میں بالخصوص باقاعدگی کے ساتھ ایسے اجتماعی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، جن سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تحمل و برداشت اور رواداری کو فروغ ملے اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو۔ مؤرخہ 15 مارچ 2002ء کو مسلم کرسچین ڈائیلاگ فورم کے تحت 40 افراد کا وفد شیخ الاسلام سے ملنے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ آیا۔ اس موقع پر مسیحیوں کے لئے جامع مسجد منہاج القرآن کے دروازے کھول دیئے گئے اور انہیں سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے مسجد میں اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔

مسیحی وفد کے سربراہ بشپ اینڈریو فرانسس (چیئرمین آف کرسچین کوآرڈینیشن کونسل) نے اس موقع پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان اور برصغیر کی تاریخ میں آج پہلی بار کسی مسلمان عالم دین نے مسیحی کمیونٹی کو جس انداز سے خوش آمدید کہا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ہمارے لئے اپنی مسجد کے دروازے کھول دیئے تاکہ ہم وہاں عبادت کر سکیں۔ یوں ڈاکٹر طاہرالقادری نے بین المذاہب رواداری کے فروغ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔“

کرسمس مسیحیوں کا عظیم تہوار ہے، اس موقع پر ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے ہر سال نمایاں مسیحی شخصیات اور تنظیموں کو کرسمس کارڈ بھجوائے جاتے ہیں، جو بذات خود مسلمان عالم دین کی طرف سے ایک عظیم مثال ہے۔ اسی طرح تحریک منہاج القرآن کے دنیابھر میں موجود مراکز پہ کرسمس کا تہوار منایا جاتا ہے، جہاں مقامی بشپس اور دیگر نمایاں مسیحی شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کو حال ہی میں ان کی طرف سے فروغ امن اور بین المذاہن مکالمہ کے ضمن میں جاری کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف مسیحی تنظیموں کی طرف سے دو امن ایوارڈ دیئے گئے ہیں۔


سلسلہ حقوق انسانی کے ضمن میں
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصنیف
اسلام میں اقلیتوں کے حقوق

مطالعہ کیلئے کلک کریں


Your Comments

منہاج القرآن
منہاج ویلفئیر
منہاج اوورسیز
پاکستان عوامی تحریک
اسلامک لائبریری
عرفان القرآان
خطابات
ماہنامہ منہاج القرآن
ماہنامہ دختران اسلام
کاپی رائٹ © 1994 - 2019 منہاج القرآن انٹرنیشنل. جملہ حقوق محفوظ ہیں.